Urdusexstory
میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو اسد نے میرا لن پکڑا ھوا تھا اور لن کو مٹھی میں دبا رھا تھا میں نے ایک جھٹکے اس کے ھاتھ سے اپنا لن چُھڑوایا اور غصے سے اس کی طرف دیکھتے ھوے کہا
اوے کیا مسئلہ ھے تجھے تمیز سے رہو تو وہ مسکرا کر بولا یار میں تو تیرا لن چیک کر رھا تھا کہ کتنا بڑا ھوگیا ھے
میں نے کہا تو نے میرا لن اپنی گانڈ میں لینا ھے جو چیک کررھا ھے،
تو بولا یار ابھی تیری عمر نھی ھے گانڈ میں لن ڈالنے کی ابھی تو تجھے یہ بھی نھی پتہ ھوگا کہ
بیر دی بُنڈ کتھے ہوندی اے
تو میں بولا
او پائی میں ایتھے پڑن آنداں ایں بیر دی بُنڈ ویکھن نئی،
تو اسد نے میرا ھاتھ پکڑا اور اپنے لن پر رکھ کر کہا یہ دیکھ ایسا ھوتا ھے بُنڈ پاڑ لن
تو میں نے جھٹکے سے اپنا ھاتھ پیچھے کرتے ھوے کہا
اوے توں باز نئی آنا
آ لین دے ماسٹر جی نوں
میں دسنا اے توں جیڑے کم کرن لگیا ھویاں اے
تو اسد نے میری کمر پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا
یار تم تو غصہ ھی کرگئے میں تو اس لیے کہہ رھا تھا کہ اپنے لن کی مالش کیا کرو دیکھنا کیسے دنوں میں میرے لن جتنا ھوتا ھے
تو میں نے کہا او بھائی اپنی اور میری عمر اور قد کا فرق دیکھ
پہلے پھر یہ بات کرنا
تیری عمر ذیادہ ھے اس لیے تیرا لن بھی بڑا ھی ھوگا میں ابھی چھوٹا ھوں اس لیے میرا لن بھی چھوٹا ھے
تو اسد بولا یار ایک تو تم غصہ بہت کرتے ھو میں تیرے فائدے کی ھی بات کررھا ھوں
اور دیکھ لن کا عمر اور قد سے کوئی تعلق نھی
لن کو جتنی جلدی اور جتنا مرضی بڑا کرسکتے ھو
میں اسد کی باتوں میں آچکا تھا اس لیے میرا غصہ کافی حد تک ٹھنڈا ھوگیا تھا
اس لیے میں اسکی باتوں کو غور سے سن رھا تھا
تو میں نے کہا وہ کیسے کرسکتے ہیں
تو اسد بولا یاسر ویرے دیکھ سیدھی سی بات ھے
میں یاروں کا یار ھوں اور گانڈو لوگوں کو میں اپنے پاس بھی نھی بھٹکنے دیتا
تم مجھے اچھے لڑکے لگے ھو میں کافی دنوں سے تجھ سے دوستی کرنا چاھتا تھا مگر ججھک رھا تھا
تو میں نے کہا دیکھ اسد میں پینڈو جیا تے سدھا سادھا جیا بندا واں
اسی پنڈ دے لوک وی یاراں دے یار ہوندے آں
تے جدے نال اک واری یاری لا لٰیے تے اودے واسطے جان وی دے دیندے آں،
اسد نے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور مجھے کہنے لگا بس یار مجھے بھی ایسا ھی سمجھ اور میں نے بھی اسکے ھاتھ میں دوستی کا ھاتھ دے دیا
اور کافی دیر ہم ایک دوسرے کو اپنے اپنے بارے میں بتاتے رھے
اسد نے بتایا کہ اسکی بس ایک بہن ھی ھے جو اس سے ایک سال چھوٹی ھے اور میٹرک کر رھی ھے اور اس کے ابو اسکے بچپن میں ھی ایک کار ایکسڈینٹ میں ہلاک ہوگئے تھے جس میں اسکے ماموں اور ممانی بھی ساتھ ھی ہلاک ھوے تھے
اور اسکا ایک کزن ھے جو اس کے ماموں کا ھی بیٹا تھا
جو کچھ دن پہلے کینڈا چلا گیا تھا
اسد کے ابو اور ماموں بوتیک کا کام کرتے تھے جو اب اسد کی امی نے سمبھالا ھوا تھا
اسد کا پڑھائی میں بلکل بھی دل نھی لگتا تھا جس وجہ سے وہ تین چار دفعہ فیل ھوا تھا اور اسی وجہ سے ابھی تک چھٹی کلاس میں ھی تھا اسد نے بتایا کہ اسے سیکس کا بہت شوق ھے اور خاص کر لڑکوں کی بُنڈیں بہت مارتا ھے
جب اس، نے مجھے یہ بتایا تو میں نے اسے مکا مارتے ھوے کہا ماما تبھی میرے پٹوں پر ھاتھ پھیرتا رہتا تھا
تو اس نے ہنس کر کہا کہ ہاں یار میں نے تجھ پر بڑی دفعہ ٹرائی ماری مگر تم ویسے لڑکے نھی نکلے ورنہ اب تک تم بھی میرے نیچے ھوتے
میں نے اسد کے ہاتھ پر زور سے ہاتھ مارا اور دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے
تو میں نے کہا یار یہ گندے رسالے کہاں سے لاتا ھے اور تجھے ڈر نھی لگتا تو اسد بڑے فخر سے بولا جگر یہ تو کچھ بھی نھی ھے میرے پاس تو ایسے ایسے رسالے پڑے ہیں کہ تو دیکھ کر چھوٹ جاے
تو میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ تم انکو رکھتے کہاں پر ھو تو وہ بولا کہ میرے کزن والا کمرہ اب میرے پاس. ھی ھوتا ھے اس میں الماریاں ہیں وہیں چھپا دیتا ھوں میرا کزن بھی بڑا حرامی تھا کسی دن تجھے گھر لیجا کر ایسی ایسی ایٹمیں دیکھاوں گا کہ تو یاد کرے گا کہ کس سخی دل سے پالا پڑا ھے
میں نے کہا واہ یار تیری تو موجیں لگی ھوئی ہیں
تو اسد بولا میرے ساتھ رھو گے تو تیری بھی موجیں ھونگی
میں نے کہا نئی یار ایسی بھی بات نھی بس تیری دوستی ھی کافی ھے میرے لیے
اسی دوران ہمیں تفری ہوگئی. ہاف ٹائم کی گھنٹی بجتے ھی سب بچے باہر کو بھاگے. ہم بھی نکل کر باہر گراونڈ میں آگئے پھر ہم سڑک کی طرف چلے گئے وھاں ریڑھی سے انڈے والے نان کھاے اور پھر گراونڈ میں آکر ایک طرف بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئے
اسد بولا سنا جگر گاوں میں کسی بچی کی پھدی بھی ماری ھے اب تک یاں پھر کنوارہ ھی پھر رھا ھے تو میں نے کہا نہ یار. ہمارے گاوں میں ایسا ویسا کچھ نھی ھوتا
اگر ایسا کچھ ھو تو پتہ لگنے پر ویسے ھی لڑکے لڑکی کو جان سے مار دیتے ہیں
تو اسد بولا
ابھی تیرا لن چھوٹا ھے نہ اسی لیے پھدی کی طلب نھی کرتا اور مجھے تو لگتا کہ تم نے ابھی تک مٹھ بھی نھی ماری ھوگی
تو میں نے حیران ھوتے ھوے پوچھا کہ یار چھوٹے لن کی تو سمجھ آگئی مگر یہ مٹھ مارنا کیا ھے
تو اسد نے ہنستے ھوے میرے کندھے پر ھاتھ مارتے ھوے کہا
جا یار. تم واقعی پکے پینڈو ھو
چل کسی دن تجھے یہ چسکا بھی ڈال دوں گا
میں کچھ دیر خاموش رھا اور جھجھکتے ھوے اسد سے بولا
یار کیا واقعی لن کے بڑے ھونے کا عمر سے کوئی تعلق نھی
تو اسد میری طرف دیکھتے ھوے بولا
تم نے بڑا کرنا ھے تو بتا دیکھنا چند دنوں میں ھی لن بڑا نہ ھوا تو کہنا
میں نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا سچی
تو اسد بولا
مچی
تو میں نے کہا یار وہ کیسے تو اسد بولا ہے میرے پاس ایک نسخہ
تو میں نے کہا کونسا
تو اسد بولا بیس روپے کا ھے بس
تو میں پریشان سا ھوکر بول بیسسسسس روپے کا
نہ یار مجھے تو گھر سے پچاس پیسے خرچہ ملتا ھے اور اسکا میں نان کھا لیتا ھوں میرے پاس اتنے پیسے کہاں سے آنے ہیں
تو اسد بولا چھڈ یار
یاراں دے ہوندیاں پریشان نئی ھوئی دا
میں نے کہا کیا مطلب
تو اسد بولا
یار میں تجھے لا دوں گا پیسوں کی فکر نہ کر
تو میں نے کہا نھی یار میں ایسے نھی لے سکتا جب میرے پاس پیسے ھونگے میں تجھے بتا دوں گا
تو اسد غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولا
ماما فیر کردتی نہ پینڈواں والی گل
نالے یاری لائی اے تے نالے فرق رکھنا اے
میں نے کہا نھی یار ایسی بھی بات نھی بس مجھے شرم آتی ھے
تو اسد بولا
چل ایسے کر مجھ سے ادھار کرکے لے لینا جب تیرے پاس پیسے ھونگے تو دینا
اب تو ٹھیک ھے
میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے اسد کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا
اتنی دیر میں ہاف ٹائم بھی ختم ھوگیا اور ہم دونوں کلاس کی طرف چل دیے
اور اسد نے بتایا کہ میں کل ھی اپنے یار کے لیے تحفہ لے آوں گا
میں دل ھی دل میں بہت خوش ھوتا رھا
چھٹی کے بعد میں عظمی اور نسرین کے سکول کی طرف چلا گیا اور انکو ساتھ لے کر گھر کی طرف چلدیا
دوسرے دن میں سکول کے لیے تیار ھوکر عظمی کے گھر گیا اور ان دونوں کو لے کر ہم تینوں باجی صدف کے گھر اسے ساتھ لینے چلے گئے
باجی صدف تیار ھوکر بیٹھی تھی بس برقعہ ھی پہننا تھا ہمیں دیکھ کر باجی صدف بولی بس دومنٹ میں ابھی آئی اور کمرے کی طرف چلی گئی
باجی صدف لگتا تھا ابھی ابھی نہائی تھی کیوں پیچھے سے گیلے بال اسکی قمیض کو بھی گیلا کیے ھوے تھے
باجی صدف نے آج پنک کلر کا سوٹ پہنا ھوا تھا جو اسپر بہت جچ رھا تھا
باجی صدف تھوڑی ھی دیر بعد برقعہ پہنے باہر آگئی اور ہم سکول کی طرف چلدیے
کھیت کی پگڈنڈی پر ہم سب آگے پیچھے چل رھے تھے سب سے آگے نسرین تھی اس سے پیچھے عظمی اور پھر باجی صدف اور اس کے پیچھے میں تھا اور باجی صدف کی ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارہ کرتے ھوے مزے سے مست ھوکر چل رہا تھا اور ہمارا فاصلہ بھی کچھ ذیادہ نھی تھا بس ایک قدم کے فاصلے پر میں باجی صدف کے پیچھے چل رھا تھا میرا لن بھی قمیض کو اوپر اٹھاے پیچھے سے باجی صدف کی گانڈ کو اشارے کر رھا تھا جب ہم آدھے راستے پر پہنچے تو ایکدم کپاس کی فصل جو اب سوکھ چکی تھی اس میں سے ایک کالے رنگ کی بلی نکل کر تیزی سے عظمی اور باجی صدف کے درمیان سے نکل کر پگڈنڈی کے دوسری طرف بھاگ گئی بلی شاید باجی صدف کے پاوں کے اوپر سے گزری تھی باجی صدف نے زور دار چیخ ماری اور پیچھے کو ھوئی جس سے اسکا پاوں بھی پگڈنڈی سے سلپ ھوا اور نیچے گرنے ھی لگی تھی کے میں نے جلدی سے باجی صدف کو پیچھے سے جپچھی ڈال دی اور گرنے سے بچا لیا
یہ سب اتنی جلدی سے ھوا کہ مجھے بھی سمجھ نہ آئی کے باجی کو کہاں سے پکڑوں
میرے پکڑنے سے پہلے باجی کافی نیچے کو جھک چکی تھی اور انکی بُنڈ جو پہلے ھی باہر کو نکلی ھوئی تھی جھکنے کی وجہ سے اور باہر نکل گئی تھی میں نے ویسے ھی اسکو پیچھے سے جب جپھی ڈالی تو میرے ھاتھوں اسکے دونوں بڑے بڑے اور نرم ممے آگئے اور میرا لن اس کی بُنڈ کی دراڑ کے اوپر ٹکر مار کر اندر گھسنے کی کوشش کرنے لگ گیا
ایسا بس کوئی تیس چالیس سیکنڈ ھی ھوا
باجی صدف نے جلدی سے اپنے دونوں ھاتھ میرے ھاتھوں پر رکھے اور جھٹکے سے مموں کو آزاد کروا دیا مگر میں نے بھی ممے چھوڑتے وقت ہلکے سے دبا کر اس انداز سے چھوڑے کے باجی کو ایسے لگے جیسے انکے چھڑانے کی وجہ سے مموں پر دباو آیا تھا
اور میرے ھاتھ باجی کے پیٹ پر آگئے تھے
اور لن صاحب ابھی تک باجی کی گانڈ میں گھسنے کی ٹرائیاں مار رھے تھے
باجی اب سمبھل چکی تھی اور عظمی اور نسرین بھی گبھرا کر کھڑی ھوگئی تھی اور عظمی نے بھی آگے بڑھ کر باجی کو بازوں سے پکڑ کر سیدھا کیا
میں نے پوچھا باجی کیا ھوا تھا بچ تو گئی چوٹ تو نھی آئی تو باجی ایکدم آگے کو ہوئی اور بڑی حیرت سے میری آگے سے اٹھی ھوئی شلوار کو ایک نظر دیکھا اور پھر اپنا آپ مجھ سے چھڑوا کر
بولی ھاں ھاں بچ گئی ھوں
بلی نے اچانک چھلانگ لگائی تو میں ڈر کر پھسل گئی
شکر ہے تم نے مجھے پکڑ لیا نھی تو میری پاوں میں موچ آجانی تھی
تو میں نے کہا باجی ***** نہ کرے کہ آپکے پاوں میں موچ اجاے
تو باجی مجھے غور سے دیکھتے ھوے میری گال پر چٹکی کاٹتے ھوے بولی
شکریہ یاسر
تو میں نے کہا کوئی بات نھی باجی یہ تو میرا فرض بنتا تھا
تو وہ تھوڑا ہنسی اور ایک دفعہ پھر میری قمیض کی طرف دیکھا جہاں اب سب شانتی تھی اور مسکرا کر پھر میرے آگے چل پڑی
میں نے اس دوران عظمی کی طرف دیکھا وہ پتہ نھی کیوں مجھے گھورے جارھی تھی
خیر ہم سکول پہنچ گئے
اور میں دل ھی دل میں بلی کو دعائیں دیتا رھا جسکی وجہ سے مجھے باجی صدف کے جسم کو چھونا نصیب ھوا وہ بھی ڈریکٹ مموں کو اور گانڈ کو
جسکو روز حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رھتا تھا،
عظمی لوگوں کو سکول چھوڑ کر میں واپس اپنے سکول آگیا کچھ دیر پڑھانے کے بعد ٹیچر بھی کمرے سے باہر چلے گئے اور سب بچے اپنی اپنی گپوں میں مصروف ھوگئے
تب اسد نے بیگ سے دو چھوٹی سی شیشیاں نکالی اور مجھے دیکھاتے ھوے کہا یہ ھے وہ جادوئی نسخہ جس کی مالش سے دنوں میں تیرا لن پھدی پاڑ لن بن جاے گا
میں نے شیشیوں کو پکڑتے ھوے انکو حیرانگی سے دیکھا جن کے ڈھکن الگ الگ کلر کے تھے اور اسد سے کہا
یہ کیا ھے
تو وہ بولا
جگر اس میں تیل ھے
رات کو تم نے پہلے یہ سفید ڈھکن والے تیل کی سارے لن پر ہلکے ہلکے مالش کرنی ھے اور لن پر سوتی کپڑا لپیٹ دینا ھے اور پھر آدھے گھنٹے بعد کالے ڈھکن والی شیشی کے تیل سے ٹوپی کو چھوڑ کر نچلے حصہ پر مالش کرنی ھے اور پھر وہ ھی کپڑا دوبارا لپیٹ لینا ھے
تو میں نے کہا کتنے دن کرنی ھے تو اس نے بتایا بس جب تک یہ تیل ختم نھی ھوتا
تب تک روز مالش کرتے رہنا تجھے دنوں میں فرق کا پتہ چل جاے گا
میں نے خوش ھوکر شیشیاں اپنے بیگ میں رکھ دی
پھر ایکدم مجھے یاد آیا کہ گھر جاکر
انکو رکھوں گا کہاں پر پھر سوچا جگہ بھی مل ھی جاے گی ایک دفعہ لے کر گھر تو پہنچوں
پھر ہاف ٹائم ھوگیا اور ہم باہر نکل کر گراونڈ میں چلے گئے اسد بولا پھر کب میرے گھر چلے گا تو میں نے بتایا کہ یار میں تمہارے گھر چلا تو جاتا مگر میں جا نھی سکتا
تو وہ بولا
جا کیوں نھی سکتا
میں نے کہا یار دراصل میرے ساتھ میری آنٹی کی بیٹیاں بھی شہر سکول آتی ہیں اور انکو ساتھ لے کر آنے اور جانے کی ڈیوٹی بھی میری ھے اس لیے
تو اسد کچھ دیر سوچتے ھوے بولا
کہ اگر ہم سکول سے پُھٹہ لگا لیں تو
میں نے کہا وہ کیا ھوتا ھے
تو اسد ہنستے ھوے میرے سر پر تھپڑ مارتے ھوے بولا
جا اوے توں وی نہ حالے تک ہینڈو ای ایں
میں نے اسے کہا ماما جدوں مینوں پتہ ای نئی کہ پُھٹہ ھوندا کی اے تے مینوں سمجھ کنج آے گی
تو وہ ہنستا ھوا بولا
کہ یار سکول سے بھاگ کر چھٹی کرنے کو پُھٹہ لگانا کہتے ہیں
تو میں نے فٹ کیا
سالیا مینوں مروانا اے
ابھی تو میرا شوق بھی نھی پورا ھوا شہر آنے کا اور تو مجھے سکول سے نکلوانے کا پروگرام بنا رھا ھے
تو اسد بولا یار پریشان نہ ھو تیرا یار ھے نہ اس سکول کا بھیدی
تو بس ٹینشن نہ لے تیرے پر اگر کوئی بات آئی تو میں سب سنبھال لوں گا
مجھے پتہ ھے کی کیا کرنا ھے
بس تو مجھ پر بھروسہ رکھ
میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے پھر اسے کہا
یار ویکھیں کِتے مروا نہ دیویں
تو اسد بولا یار مجھ پر یقین نھی تو میں نے کہا نھی
تو اسد غصے سے کھڑا ھوکر مُکا بنا بازو اوپر کر کے کہنے لگا
لن تے چڑ فیر
اور جانے لگا تو میں نے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھاتے ھوے کہا
ایویں ھن شوخا نہ بن چل فیر ویکھی جاے گی جو ھوے گا
تو اسد بولا چل پھر کل تیار رہنا ہم اسمبلی کے وقت سکول کے کمروں کے پیچھے بیرونی دیوار سے نکل کر سکول سے. باھر نکل جاءیں گے
تو میں نے کہا یار سکول کی دیواریں تو کافی اونچی ہیں تو وہ بولا اس بات کی فکر نہ کر بس تو تیار رہنا
میں نے اثبات میں سر ہلایا
اور ہم دونوں اٹھے اور باہر سڑک پر اکر نان کھانے لگ گئے
سکول سے واپس. جاتے بھی کچھ خاص نھی ھوا
دوسرے دن پلاننگ کے تحت ہم کمروں کے پیچھے چلے گئے کیوں کے سکول کا مین گیٹ بند ھوگیا تھا اور کوئی بچہ باھر نھی جاسکتا تھا
ہم کمروں کے پیچھے سے چلتے ھوے ایک جگہ پہنچے جہاں سے بڑا سا نالا تھا جو سکول کی بیرونی دیوار کے نیچے سے باہر کو جاتا تھا جو اس وقت سوکھا ھوا تھا شاید بارش کے پانی کے لیے وہ نالا بنایا ھوا تھا
نالے کا سوراخ اتنا بڑا تھا کہ ہم آسانی سے نکل کر دوسری طرف جاسکتے تھے
پہلے اسد نیچے گھسا اور دوسری طرف گردن نکال کر تسلی کرنے لگا اور پھر جلدی سے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور باھر نکل گیا میں بھی اسکے پیچھے ھی باہر تیز تیز قدم اٹھاتے ایک چھوٹی سی گلی میں گھس گئے وہ گلی آگے جاکر بازار میں کھلتی تھی میں نے اسد سے کہا یار چھٹی کے وقت میں نے سکول پہنچنا ھے تو اسد بولا یار پریشان نہ ھو ساری ٹینشن دماغ سے نکال دے اور میرے ساتھ چل پھر دیکھنا تو سب کچھ بھول جاے گا
میں چپ کرگیا اور اسکے ساتھ ساتھ تیز قدموں سے چلتا رھا
ہم بازار سے ھوتے ھوے پھر ایک گلی میں گھس گئے گلی بھی بازار کی ھی طرح تھی
مگر ادھر آمدورفت بہت ھی کم تھی
اسد نے ایک دکان کے آگے رکتے ھوے مجھے کہا چل یار آج تجھے ایک گرما گرم چیز دیکھاتا ھوں تو میں نے کہا کہاں پر تو اس نے دکان کی طرف اشارہ کیا جس کے اگے پردہ لگا ھوا تھا اور اندر سے ویڈیو گیم کا شور آرھا تھا
اسد نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے لے کر دکان میں گھس گیا
کاونٹر پر ایک انکل بیٹھا ھوا تھا
اسد نے اسے ایک روپیہ دیا اور اسے کہا سپیشل گیم تو اس نے کافی سارے سکے اسد کو تھما دیے اور سائڈ پر بنے ایک کیبن کی طرف اشارہ کیا اور بولا ادھر چلے جاو خالی ھے
میں بونگوں کی طرح دکان میں لگی بڑی بڑی گیموں کو دیکھ رھا تھا جہاں پانچ چھ بچے مختلف گیمیں کھیل رھے اور وہ بچے بھی سکول یونیفارم میں ھی تھے
اسد کیبن کی طرف چل دیا اور میں بھی اسکے پیچھے کیبن کے اندر گھس گیا
اسد نے ایک سکہ گیم میں ڈالا اور گیم سٹارٹ کر کے کھیلنے لگ گیا میں حیران ھوکر رنگین سکرین پر چلتی ھوئی گیم کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رھا تھا
میں نے زندگی میں پہلی دفعہ رنگین ٹی وی دیکھا تھا
اسد نے گیم ختم کی اور میرے پٹ پر ھاتھ مار کر بولا تیار ھوجا اب
میں نے گبھرا کر اسد کی طرف دیکھا تو
اسد نے کہا جگر ادھر دیکھ تو میں سکرین کی طرف دیکھنے لگ گیا اتنے میں ایک بڑی خوبصورت انگریز لڑکی جس نے ہاف سکرٹ پہنا ھوا تھا اور اونچی ہیل والی جوتی پہنی ھوئی تھی اسکے ممے اتنے بڑے تھے جیسے ابھی سکرٹ کو پھاڑ کر باہر آجائیں گے
وہ بڑی ادا سے جسم کو لہراتی ھوئی ہماری طرف آئی
اور بڑی ادا سے کھڑی ھوگئی اور ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر ھاتھ کو چوما اور ہماری طرف پھونک ماردی اور سکرین پر انگلش میں لکھا ھوا
ویلکم ٹو مائی سویٹ ھارٹ
آیا
اور وہ لڑکی گھومی اور پیچھے اپنی بڑی سی گول مٹول سی گانڈ پر دونوں ھاتھوں کو رکھا اور بڑے سٹائل سے ھاتھوں کو اپنی گانڈ پر پھیرا اور اسی سٹائل سے چلتی ھوئی واپس چلی گئی
تو اسد نے میری طرف دیکھا اور بولا
سنا فیر
میں نے کہا یار بچی تو کمال کی تھی
تو اسد بولا
آگے آگے دیکھ
تو اسد پھر گیم کھیلنے لگ گیا اور کچھ ھی دیر بعد اسد نے دوسری سٹیج بھی کھیل لی اور وہ ھی لڑکی پھر دوبارا اسی سٹائل سے کمر کو لہراتی گانڈ کو مٹکاتی ھوئی چلی آئی اور پھر سے ہوائی چُمی ہماری طرف پھینکی اور بڑے سٹائل سے کندھوں پر اپنے دونوں ھاتھ رکھے اور کندھوں سے سکرٹ نیچے اتار دیا سکرٹ مموں پر آکر رک گیا
اور پھر اس لڑکی نے بڑی ادا سے کمر کو ہلایا اور ساتھ ساتھ سکرٹ کو نیچے کرتی گئی جب سکرٹ اسکے مموں سے نیچے اترا تو سرخ کلر کے بریزیر میں اسکے بڑے بڑے گول مٹول ممے قیامت ڈھا رھے تھے اسکے ممے دیکھ کر میرا تو حلق خشک ھونے لگ گیا اور میں نے بے ساخت اپنے لن کو پکڑ کر مسلنے لگ گیا
لڑکی نے آہستہ آہستہ کمر کو لہراتے ھوے سکرٹ گانڈ تک اتارا دیا اور پھر دونوں ھاتھ اپنے کولہوں پر رکھ کر گانڈ کو لہراتے ھو سکرٹ گانڈ سے بھی نیچے اتار کر چھوڑ دیا
سکرٹ اسکے پاوں میں گر گیا
اب وہ سرخ بریزیر اور سرخ ھی پینٹی میں تھی اسکے پورے جسم پر ایک بھی بال نھی تھا کیا کمال کا فگر تھا یار
لڑکی کچھ دیر کھڑی ادائیں کرتی رھی اور پھر واپس چلی گئی
اسد نے میری طرف دیکھا اور بولا سنا جگر مزہ آیا کہ نھی میں نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ھوے اسے کہا یار کمال کردتا ای
کیا بم پھوڑ کے گئی ھے مزہ اگیا
تو اسد بولا آگے دیکھ
اور اسد نے اگلی سٹیج کھیلنی شروع کردی
تو میں نے کہا
یار اسکا نام کیا ھے تو اسد نے سکرین پر ایک سائڈ پر اسی لڑکی کی چھوٹی سی تصویر کے نیچے لکھے نام کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا
اسکا نام جولی ھے تو میں نے کہا واہ کیا نام ھے جولی
تو اسد ہنسنے لگ گیا
اور بولا
نام تو ایسے پوچھ رھا ھے جیسے اس سے شادی کرنی ھے
تو میں نے ایک لمبا سا سانس اندر کھینچ کر سانس باہر چھوڑا اور آہ بھرتے ھوے کہا ساڈی قسمت وچ کتھوں ایھو جیاں پریاں
تو اسد کھل کھلا کر ہنس پڑا اور بولا
میرے شزادے تو لن تو ایک دفعہ بڑا کر پھر دیکھ ایسی تو کیا اس سے بھی سپیشل پھدیاں تیرا انتظار کریں گی
تو میں نے حسرت بھری اواز نکالتے ھوے کہا
پتہ نئی او وقت کدوں آنا اے تو
اسد بولا بس صبر کر صبر دا پھل مٹھا ھوندا اے
تبھی اسد نے سٹیج مکمل کی اور پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی
تو جولی پھر گانڈ کو لہراتی بل کھاتی کیٹ واک کرتی ہماری طرف آکر کھڑی ھوگئی
اور پھر ایک فلائنگ کس ہماری طرف پھینکی جسے میں نے آگے ھاتھ کر کے پکڑ کر اپنی مٹھی میں بند کر کے اپنے سینے کے ساتھ مٹھی کو لگا لیا
جولی نے دونوں ھاتھ کمر کے پیچھے کیے اور بریزیر کے ہک کھول دیے اور کندھوں سے بریزیر کے سٹرپ سرک کر نیچے بازوں تک کر دیے اور ھاتھ آگے کر کے مموں پر بریزیر کے کپ کے اوپر رکھ لیے اور آنکھ سے اشارہ کر کے ہمیں پوچھا کہ اتاردوں
میں جو بے صبری سے اسکے مموں کو دیکھنے کے لیے ترسا بیٹھا تھا جلدی سے بولا
لا وی دے ہن کناں ترسائیں گی
تو اس نے میری بات مان کر مموں سے بریزیر کے کپوں کو ہٹا دیا
اور میں جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور دونوں ھاتھوں سے اسکے ممے پکڑنے کی کوشش کرنے لگ گیا اور سکرین کو نوچنے لگ گیا اتنے میں
میں ایکدم اچھلا کیوں کہ اسد نے پیچھے سے میری گانڈ میں انگلی دے دی تھی
میں اچھل کر واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا اور بولا جا اوے پین یکہ سارا مزا ای خراب کردتا ای
تو اسد ھنستے ھوے بولا سالیا ساری سکرین روک لئی سی مینوں وی تے ویکھن دے
تب جولی نے اپنے گول مٹول مموں کو پکڑا اور ایک ممے کو اپنے منہ کی طرف لے گئی اور نپل پر زبان پھیر کر ممے کو چھوڑ دیا پھر دوسرے ممے کے نپل پر زبان پھیری اور واپس. چلی گئی
اسد نے پھر گیم کھیلنا شروع کردی اور کچھ ھی دیر بعد سٹیج ختم کی اور پھر سے جولی بڑے بڑے مموں کو لہراتی گانڈ کو ہلاتی چلی آئی ابھی جولی نے فلائنگ کس کی ھی تھی کہ اچانک ایک جھماکہ ھوا اور،،،،،
جھماکہ ہوتے ہی لائٹ بند ھوگئی
میں نے اور اسد نے ایک آواز میں ھی واپڈا والوں کو تگڑی سی گالی دی اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے
میں نے اسد کو کہا یار چلو دفعہ کرو پھر کبھی دیکھیں گے اور ہم دکان سے باہر نکل کر اسد کے گھر کی طرف چل دیے
اسد کے گھر کے سامنے پہنچ کر اسد نے جیب سے چابی نکالی اور مجھے رکنے کا کہہ کر گیٹ کھول کر اندر داخل ھوگیا
میں باہر کھڑا حیرانگی اور حسرت بھری نگاہوں سے اسد کے گھر کو باہر سے دیکھنے لگ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ باہر سے اتنا خوبصورت گھر ھے تو اند سے کتنا خوبصورت ھوگا
اتنے میں اسد نے بیٹھک کر دروازہ کھول کر مجھے اندر آنے کا اشارا کیا
میں جیسے ھی اندر داخل ہوا تو اپنے پینڈو ہونے کا ثبوت دینے لگ گیا اور کمرے کی سجاوٹ کو دیکھ کر واہ واہ کرنے لگ گیا کیا کمال کی کمرے میں سیٹنگ کی ھوئی تھی بڑے بڑے صوفے اور صوفوں کے اگے پڑا بڑا سا شیشے کا ٹیبل دیواروں کے ساتھ لگی رنگ برنگی پینٹنگ دیواروں پر لمبے سائز کے خوبصورت پردے
کیونکہ اتنا خوبصورت کمرہ اور یہ سب چیزیں میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی ہمارے گاوں میں تو بس بیٹھکوں میں چارپایاں اور موُڑے پڑے ھوتے تھے یا جو اچھے زمیندار ھوتے انکے لکڑی کے صوفے ھوتے مگر یہاں تو سب کچھ ھی میرے لیے نیا تھا،،
اسد میری حالت دیکھ کر ہنستے ھوے بولا
جگر بیٹھ میں تھوڑی دیر تک آیا
اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا وہ جلدی سے گھر کے اندر کی طرف جاتے دروازے سے نکل کر اندر چلا گیا اور میں کھڑا ھوکر پھر کمرے کی ہر ہر چیز غور سے دیکھنے لگ گیا
کچھ دیر میں گردن کو گھماتے کمرے کی چاروں اطراف کا جائزہ لیتا رھا
پھر میں صوفے پر بیٹھ گیا
بیٹھتے ھی میجھے ایسے لگا جیسے میں صوفے مین دھنس کر پیچھے کی طرف گرنے لگا ہوں
دوستو اس وقت اگر میری کوئی حالت دیکھتا تو شاید ہنسی کے دورے سے بےہوش ہوجاتا
میں ہڑبڑا کر پھر سے کھڑا ھوگیا اور پریشان ھوکر صوفے کو دیکھنے لگ گیا
پھر میں نے ڈرتے ڈرتے صوفے کی سیٹ پر ہاتھ پھیرا اور اسکو دبا کر تسلی کرنے لگ گیا کہ صوفہ سہی سلامت ھی ھے
میں دوبارا ڈرتے ڈرتے صوفے پر آہستہ سے بیٹھ گیا اب صوفے کی سیٹ اتنی نیچے نھی ھوئی تھی
دراصل ہوا یہ تھا کہ پہلے میں بڑی شوخی سے صوفے پر پورے وزن کے ساتھ بیٹھا تھا
صوفہ انتہائی نرم تھا اس لیے میرے ذور سے بیٹھنے کی وجہ سے صوفے کا میٹرس بھی نیچے کی طرف گیا اور میں ڈر گیا تھا
میں بیٹھ کر تھوڑا تھوڑا نیچے سے گانڈ کو اٹھا اٹھا کر صوفے کا مزہ لے رھا تھا
کہ اچانک گھر کے اندر کی طرف والے دروازے کا پردہ سرکہ اور
ایک حسین دلفریب پری کا چہرہ نمودار ھوا
چہرہ کیا تھا چودہویں کا چاند تھا
میرے تو ہوش ھی ہوا ھوگئے میرا تو اس وقت یہ حال تھا کہ
اس کے بے ہجاب ھونے تک یاسر
شامل تھے ہم بھی ہوش والوں میں
چودہویں کے چاند جیسا روشن چمکتا چہرہ گلابی ہونٹ چہرے پر معصومیت آنکھوں کا ٹھاٹھیں مارتا ساگر شاید حسن کی ساری تعریفیں اس چہرے میں ھی تھی
اس کی انکھوں نے مجھے غور سے دیکھا اور میری گستاخ آنکھوں نے بھی جرات کردی اسکی آنکھوں کے سمندر میں ڈبکی لگانے کی
پھر وہ حسین چہرہ پردے کی اوٹ لے کر گم ھوگیا
مگر میں اس حسین چہرے کے سحر میں ابھی تک جکڑا پردے کو دیکھی جارھا تھا اور میری نظریں پھر اس گستاخی کے لیے ترسی اسکو تلاش کررھی تھی
مگر وہ جاچکی تھی
ھاےےےےےے افففففف ٹھنڈی آھ بھری اور پھر اسی کے بارے میں سوچنے لگ گیا کہ کون تھی یہ حسینا۶
کچھ دیر اسی قاتلہ کے بارے میں سوچتا رھا جو ایک ھی نظر میں میرا سب کچھ لے اڑی تھی
کہ اسد اندر داخل ھوا میں نے حسرت بھری نگاہوں سے پھر پردے کی طرف دیکھا کہ شاید وہ ھی حسینہ جلوہ گر ھے
مگر وہ سالا اسد تھا
اسد ہاتھ میں ٹرے لیے ھوے ایا جس میں مشروب تھا اور بسکٹ وغیرہ
اسد میرے پاس آیا اور ٹرے ٹیبل پر رکھ کر میرے ساتھ بیٹھ گیا اور بولا سوری یار وہ کپڑے بدلنے میں دیر ھوگئی تھی
مگر میں تو اپنے خیالوں میں کھویا ھوا تھا کہ اسد نے مجھے گم سم دیکھ کر کندھے سے پکڑ کر ہلاتے ھوے کہا
اوے کتھے پُنچیا ھویاں اے
طبعیت تے سئی اے
تو اسے میں کیا بتاتا
کہ
یہ طبیب بھلا اب میری مرض کو کیا سمجھیں،
تم اب آ بھی جاو
کہ یہ وصل بیماری ھے
میں نے ایکدم چونکتے ھوے اسد سے کہا نھی نھی میں ٹھیک ھوں بس ایسے ھی تمہارا گھر دیکھ کر بس اپنی غریبی کے بارے میں سوچ رھا تھا
تو اسد نے مجھے کندھے سے پکڑا اور بولا
چھڈ یار ایویں چولان مار دیاں ایں دوبارا اے گل نہ سوچیں یاری وچ امیری غریبی نئی ہوندی
اور ساتھ ھی مشروب کا گلاس مجھے پکڑا دیا اور کہنے لگا چل جلدی سے پی پھر تجھے ایک گرم گرم چیز دیکھاتا ھوں
میں تو پہلے ھی گرم ھو چکا تھا اسے اب کیا بتاتا
میں نے ایک ہی سانس میں گلاس ختم کیا اور اسد کو کہنے لگ گیا کہ یار تمہارا گھر بہت خوبصورت ھے
تو اسد نے شکریہ ادا کیا
کچھ سوچتے ہوے میں نے اسد سے پوچھا یار تیری امی نے نھی پوچھا کہ تو سکول سے اتنی جلدی واپس اگیا ھے
تو وہ ہنس کر بولا
کہ امی تو بوتیک پر چلی گئی ہیں اور رات کو ھی واپس آئیں گی گھر میں بس سسٹر ھی ھے اور اسکو رشوت وغیرہ لگا دیتا ھوں تو وہ امی کو نھی بتاتی تو میں ہمممم کر کے چپ کر کے اندازہ لگانے لگ گیا کہ ہو نہ ہو وہ حسین پری اسد کی بہن ھی ھوگی
کچھ دیر ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے پھر اسد نے مجھے کہا چل اٹھ اوپر کمرے میں چلتے ہیں
میں اسد کے پیچھے بیٹھک سے نکل کر انکے گھر میں داخل ھوے
اور سامنے ٹی وی لاونج سے سیڑیاں چڑھ کر اوپر جانے لگ گئے اسد میرے آگے جارھا تھا میں نے پیچھے سے سارے گھر کا جائزہ لیا
مگر مجھے وہ قاتل حسینہ کہیں نظر نہ آئی
ہم اوپر پہنچے تو اسد مجھے لے کر ایک کمرے میں چلا گیا جب میں کمرے میں داخل ھوا تو وہ کمرا بھی کمال کا تھا سامنے بڑا سا جہازی سائز کا بیڈ پڑا تھا اور بیڈ کے بلکل اوپر چھت کے ساتھ شیشے کا بڑا سا جھومر لٹک رھا تھا اور دوسرے طرف ایک بڑی سی الماری بنی ھوئی تھی جس میں بڑے سائز کا ٹی وی پڑا تھا اور نچلے حصے میں وی سی آر اور اس سے نچلے حصہ میں کافی ساری ویڈیو کیسٹوں کا انبار لگا ھوا تھا
اور کمرے کی ایک سائڈ پر چھوٹا سا دروازہ تھا جو شاید اٹیچ باتھ کا لگ رھا تھا
اسد نے مجھے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دروازہ لاک کرنے چلا گیا
دروازہ لاک کر کے اس نے ٹی وی اون کیا اور وی سی آر کے پیچھے کی طرف ھاتھ مارتے ھو کچھ تلاش کرنے لگ گیا کچھ دیر بعد اسکے ھاتھ میں ایک ویڈیو کیسٹ تھی جو اس نے وی سی آر میں لگا دی اور وی سی آر اور ٹی وی کا ریمورٹ لے کر میرے ساتھ بیڈ پر جمپ مار کر بیٹھ گیا میں ابھی تک ٹانگیں نیچے لٹاے بیٹھا تھا تو اسد نے مجھے کہا جگر اوپر ھوکر بیٹھ جا کیا
نئ نویلی دلہن کی طرح شرما رھا ھے یہ اپنا ھی گھر سمجھ
میں بھی ٹانگیں پھیلا کر بیڈ پر بیٹھ گیا
تبھی سامنے ٹی وی پر بلیو فلم چل گئی اور انگریز گوریوں کو مختلف پوزوں میں چود رھے تھے
میں بڑی دلچسپی سے ویڈیو دیکھ رھا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لن کو بھی مسل رھا تھا
کافی دیر بعد
۔میری اچانک اسد پر نظر پڑی تو اسد نے اپنا بڑا سا لن نکال کر ھاتھ میں پکڑا ھوا تھا
اور لن پر ھاتھ سے مُٹھی بنا کر اوپر نیچے کری جارھا تھا
میں نے اسے ھاتھ سے ہلا کر کہا
سالیا اے کی کری جاناں اے
تو اسد نے بڑی سیکسی سی آواز میں کہا
مٹھ مار رھا ھوں تو بھی ایسے کر پھر دیکھ کتنا مزہ آتا ھے اور پھر سے ٹی وی کی طرف دیکھ کر مُٹھ مارنے لگ گیا
میرا بھی فلم دیکھ کر دماغ خراب ھوچکا تھا میں نے بھی شلوار میں سے لن نکالا اور جیسے اسد کر رھا تھا ویسے ھی کرنے لگ گیا
مجھے کچھ خاص مزہ نھی آرھا تھا تو میں نے اسد کو کہا
گانڈو ایسے تو بلکل بھی مزہ نھی آرھا اس سے زیادہ تو لن کو مسلنے میں مزہ آتا ھے
1 Comments
Next
ReplyDeleteAgar ap apni family ki ya apni girlfriend ki Story post Karna chahte hain to email Karen